Shah Abdullah Alamee
- Description
مژدہ اے ذوقِ اسیری کہ نظر آتا ہے
دام خالی قفسِ مرغِ گرفتار کے پاس
جگرِ تشنہ آزار تسلّی نہ ہُوا
جُوئے خوں ہم نے بَہائ بُنِ ہرخار کے پاس
مُندگئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
خوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس
میں بھی رُک رُک کے نہ مرتا، جو زبان کے بدلے
تشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غمخوار کے پاس
دہنِ شیر میں جا بیٹھیے ، لیکن اے دل
نہ کھڑے ہو جیے ُوبانِ دل آزار کے پاس
دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نُمو کرتا ہے
خود بخود پہنچے ہے گُل گوشہ دستار کے پاس
مر گیا پھوڑ کے سر غالب وحشی ہے ہے
بیٹھنا اُس کا وہ آکر تری دیوار کے پاس
